Home Top Ad

Responsive Ads Here

معراج ‏النبی ‏کی ‏حقیقت ‏

Share:
*معراج النبی ﷺ کی ایک عیسائی عالم نے تصدیق کی۔

*امام اِبنِ کثیر نے اپنی تفسیر اور امام ابو نعیم اصفہانی نے دلائل النبوۃ میں بیان کِیا ہے کہ محمّد بِن کعب الکربی روایت کرتے ہیں کہ:*
*حضور ﷺ نے اپنے صحابی وحیہ کلبی رضی اللّہ عنہُ کو قیصرِ روم کی طرف اسلام کا پیغام دے کر بھیجا۔آپ رضی اللّہ عنہُ نے اس عیسائی بادشاہ کو دعوتِ اسلام پہنچائی اور حضور ﷺ کے فضائل و مناقب بیان کیے تو اس نے کہا: '' میں عرب کے کچھ تاجروں سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں۔ '' ان سے حضور ﷺ کے حالات بیان کرنے کو کہا گیا۔ابو سفیان کا بیان ہے کہ: '' میں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ کسی طرح بادشاہ کی نظروں میں حضور ﷺ کا درجہ گِر جائے اور وہ حضور ﷺ کو ماننے سے انکار کر دے لیکن محتاط بھی رہا کہ کسی جھوٹ پر پکڑا نہ جاؤں۔ '' ابو سفیان نے کہا کہ: '' اے قیصرِ روم! میں تم کو اس نبی (ﷺ) کی ایک ایسی بات بتاتا ہوں جسے سُن کر تجھے ( معاذ اللّہ ) اس کے جھوٹے ہونے کا یقین آ جائے گا۔ '' یہ کہہ کر اس نے واقعہ معراج النبی ﷺ بیان کِیا۔جب وہ اس مقام پر پہنچا کہ حضور ﷺ نے کہا کہ: '' میں براق پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچا جہاں بابِ محمّد (ﷺ) میرے لیے کُھلا تھا وہاں پتھر سے براق کو باندھا گیا تھا۔ '' اس وقت قیصرِ روم کے دربار میں دنیائے عیسائیت کا سب سے بڑا پادری بھی موجود تھا۔یہ سُن کر پادری بولا: '' ہاں اس رات کا مجھے علم ہے۔ ''*
*قیصرِ روم نے کہا تجھے اس رات کی کیا خبر ہے؟ پادری نے جواب دیا کہ: '' میرا معمول تھا کہ میں ہر رات مسجدِ اقصیٰ کے دروازے اپنے ہاتھوں سے بند کر کے اور تالے لگا کر سویا کرتا تھا۔اس رات جب میں اس دروازے پر پہنچا تو وہ بند نہ ہُوا۔میں نے کئی ساتھوں کو بُلایا جنہوں نے مِل کر زور لگایا مگر پھر بھی دروازہ بند نہ ہُوا۔حتیٰ کہ مستریوں کی کوششیں بھی بے کار گئیں۔لہٰذا فیصلہ یہ ہُوا کہ اب تو اسے کُھلا چھوڑ کر سو جائیں۔صبح اُٹھ کر اسے بند کر دیں گے۔ '' پادری کہتا ہے کہ: خدا کی قسم! اس رات میں دروازہ کُھلا چھوڑ کر سو گیا لیکن ساری رات سوچتا رہا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔اگلے روز علی الصبح میں نے دروازہ بند کرنا چاہا تو وہی دروازہ جو رات کو بند نہ ہُوا تھا اس وقت آرام سے بند ہو گیا۔میں یہ دیکھ کر حیران کھڑا تھا کہ میری نظر دروازے کے باہر پتھر پر پڑی تو اس پر سواری کے باندھنے کا نشان تھا۔ '' اس پتھر کے بارے میں حضور سرورِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: '' جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبرائیل علیہ السّلام نے اپنی اُنگلی سے اِشارہ کِیا تو اس پتھر میں سوراخ ہو گیا۔پھر جرائیل امین علیہ السّلام نے اس کے ساتھ براق کو باندھا۔ ''* 
*عیسائی پادری کہتا ہے کہ : '' میں نے اس کیفیت کو دیکھا تو مجھے پرانی الہامی کتابوں میں پڑھا ہُوا یہ واقعہ یاد آ گیا جو ہم انبیاء علیہ السّلام کی زبانی سنتے آئے ہیں کہ جب نبی آخر الزمان ( ﷺ ) کا زمانہ آئے گا تو انہیں سفرِ معراج پر بُلایا جائے گا۔اور وہ اس رات بیت المقدس آ کر انبیاء علیہ السّلام کی امامت کرائیں گے اور اس پتھر پر ان کی سواری باندھی جائے گی۔میں سمجھ گیا کہ آج نبی آخر الزمان (ﷺ) کی معراج کی رات ہے اور ابو سفیان اپنے بیان میں سچا ہے۔'' ابو سفیان کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ سُنا تو میرے قدموں کے نیچے سے زمین نِکل گئی کہ یہ تو ایسی حقیقت ہے کہ عالمِ عیسائیت کا بڑا پادری بھی اپنی مخالفت کے باوجود اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔وہ کہتے ہیں کہ: '' خدا کی قسم! لوگ آج بھی سواری باندھنے والی جگہ پر ہاتھ لگا کر برکتیں حاصل کرتے ہیں۔ ''*
*نام کتاب = رسول اللّہ ﷺ کے دو ہزار معجزات
 صفحہ 326،327

No comments

صحت مندی کا ہنر

اپنی صحت کا خیال رکھیںاور جسم کو خوفزدہ ہونے سے بچائیں۔ ہمارا جسم کب خوفزدہ ہوتا ہے 👈1- معدہ (Stomach): اس وقت ڈرا ہوا ہوتا ہے جب آپ صبح کا...